دی سپرلیڈڈاٹ کام ، نئی دہلی : بھارت میں ایک ازدواجی تعلقات کا ایک اور انوکھا واقعہ پیش آیا ہے ۔ شوہر بیوی کے خلاف عدالت پہنچ گیااور درخواست میں موقف اپنایا کہ عدالت بیوی کواپنے کنوارے پن کا ٹیسٹ کروا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے مگر عدالت نے شہری کی درخواست مسترد کر دی اور واضح کیا کہ یہ بھارتی خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے ۔ عدالت کسی بھی خاتون کو کنوارے پن کا ٹیسٹ کرانے پر مجبور نہیں کر سکتی ۔
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ خواتین کو کنوارے پن کا ٹیسٹ کرانے پر مجبورکرنا ان کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے ۔دائر کی گئی درخواست میں بیوی کے ناجائز تعلقات پر شک کا اظہار کیا گیا تھا۔ جوڑے کی شادی اپریل 2023 میں ہوئی تھی جس کے بعد مذکورہ شہری نے فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست مسترد ہونے کے بعد ہائیکورٹ جا پہنچا جہاں سے بھی درخواست مسترد کر دی گئی ۔ دوسری جانب اسی خاتون نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس کا شوہرجنسی طور پر کمزور ہے اور حقوق زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہے اس لئے وہ اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھنا بھی نہیں چاہتی ۔