دی سپرلیڈ ڈاٹ کام ، واشنگٹن ڈی سی ۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر بڑا اضافہ کرکے غریب عوام کو پریشان کر دیا ہے ۔ 26 روپے 77 پیسے اضافہ کرکے عوام کی مشکلات بڑھا دی گئی ہیں ۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے ۔
پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 393 روپے 35 پیسے فی لٹر ہوئی ہے اس طرح عوام کو رات گئے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے دھچکا برداشت کرنا پڑا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے ۔
ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان یقینی ہے ۔ اس حوالے سے وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھربڑھ رہی ہیں۔
عالمی منڈی اور شراکت داروں سے معاہدوں کے باعث قیمتیں بڑھانا پڑیں ۔ حکومت مجبوری کی وجہ سے یہ قدم اٹھارہی ہے ۔ حکومت نے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا ہے ۔ امید کرتے ہیں کہ یہ بحران جلد ختم ہو جائے گا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپرٹریڈ کر رہی ہے جبکہ پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ اہداف میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے مطابق رکھی تھی۔پاکستان سالانہ 16 سے 18 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کرتا ہے۔
دی سپرلیڈ ڈاٹ کام کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں دس ڈالر فی بیرل کے اضافے سے پاکستان کو تیل کی درآمد پر سالانہ اضافی ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں لیکن جس تناسب سے پٹرول کی قیمت بڑھائی گئی ہے وہ عالمی مارکیٹ کے تناسب اور پاکستان کے امپورٹ بل سے کہیں زیادہ ہے ۔




