دی سپرلیڈ ڈاٹ کام ، میلسی ۔ فتح خان جوئیہ، جوئیہ قبیلے کے ایک سردار تھے، جو کہ ایک راجپوت خاندان ہے جس کا ذکر مہابھارت اور سنسکرت کے ماہرِ لغت پانینی کی تحریروں میں "یودھے” کے طور پر ملتا ہے۔ مورخین کے مطابق فتح خان جوئیہ ،گاؤں فتح پور کے بانی تھے، جو میلسی شہر سے پندرہ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ فتح پور کی نیم خود مختار ریاست کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی تھی۔ ملتان گزٹیئر کے مطابق فتح خان جوئیہ نے شیر شاہ سوری کے خلاف بغاوت کی تھی، جس پر شیر شاہ سوری نے ملتان کے گورنر ہیبت خان نیازی کو ان کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔اس کےبعد فتح خان پاکپتن سے ہجرت کر کے فتح پور میں آباد ہو گئے تھے۔
مقامی روایات کے مطابق، فتح پور میں آباد ہونے کے بعد راجپوت سردار فتح خان نے کھائی (وہاڑی کا ایک تاریخی گاؤں) کے صوبیدار علی حسین کو لگان (ٹیکس) دینے سے انکار کر دیا تھا۔ علی حسین نے جوئیہ پر حملہ کیا اور ‘ حلیم کھچی ‘ کے مقام پر دونوں لشکروں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں علی حسین مارا گیا۔
بعد ازاں، دولت خان جوئیہ اور ان کی اولاد” دولتانے” اس علاقے کے حکمران بنے۔ یہ حکمرانی 1754 تک برقرار رہی، یہاں تک کہ امیر مبارک خان عباسی نے حملہ کر کے اس علاقے کو فتح کر لیا اور اسے ریاست بہاولپور کا حصہ بنا دیا۔فتح خان جوئیہ کا مقبرہ ایک قدیم قبرستان کے وسط میں واقع ہے اور اس کی تعمیر پندرویں صدی کے فنِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے، جو تحصیل میلسی کے ہی چک ڈبلیو بی -184 میں واقع سخی دلائل کے مقبرے سے مشابہ ہے۔
یہ ایک وسیع و عریض قبرستان ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی دور میں دریائے ستلج کا پانی یہاں آیا ہو، آثار ایسے ملتے ہیں اور اس سے اس قبرستان کو شدید نقصان پہنچا۔ یہاں بہت قدیم قبریں موجود ہیں۔ جن کی ساخت بہت قدیم اور عجیب ہے۔قدیم تعمیرات کے آثار بھی واضح طور پر ملتے ہیں — ان کی بنیادیں، دیواروں کے کچھ حصے، کرچیاں اور کنکر بتاتے ہیں کہ یہاں کسی وقت بہت عظیم تعمیرات تھیں۔ مگر فتح خان جوئیہ کا مقبرہ اتنہائی خستہ حال ہے ۔ گنبد گر چکا ہے، مقبرے کے اندر تین قبریں موجود ہیں جو اب کچی ہو چکی ہیں۔ ایک ایسا عظیم الشان تاریخی شخصیت کا مقبرہ آج اتنی افسوسناک اور قابلِ رحم حالت میں ہے ۔




