SUPER FEATURESUPER WORLD

بھارت میں اکیلی خواتین کی رہائش: آزادی کا سفر یا کڑی نگرانی؟

کوکب شیرانی ، بشکریہ ڈی ڈبلیو :بھارت کے بڑے شہروں میں روزگار کے مواقع، تعلیمی اداروں اور بہتر سہولیات کے باعث اکیلے رہنے والی خواتین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے

کوکب شیرانی ، بشکریہ ڈی ڈبلیو :بھارت کے بڑے شہروں میں روزگار کے مواقع، تعلیمی اداروں اور بہتر سہولیات کے باعث اکیلے رہنے والی خواتین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن اس آزادی کا راستہ تنگ ہے۔ رہائشی امتیاز، سماجی نگرانی، کردار کشی اور حد سے بڑھتی ہوئی مداخلت—یہ سب خواتین کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ متعدد شہروں میں خواتین اب بھی اپنے گھر کرائے پر لینے سے قبل اپنے کردار کا ’’ثبوت‘‘ دینے پر مجبور ہیں۔

اکیلی عورت ہونا خود ایک سوال بن جاتا ہے

40 سالہ ستاپا سِکدار کے لیے دہلی کے مضافات میں گھر تلاش کرنا کسی جنگ سے کم نہ تھا۔ لینڈ لارڈز اور بروکرز کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا: "شادی شدہ ہو یا طلاق یافتہ؟"
وہ بتاتی ہیں کہ کئی سوسائٹیز میں انہیں صرف اس وجہ سے رہنے کی اجازت نہیں ملی کہ وہ ایک عورت ہیں اور اکیلی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر آپ سنگل ہیں یا طلاق یافتہ، تو وہ کہتے ہیں کہ آپ کو گھر نہیں دیا جا سکتا۔ یہ محض ان کا مسئلہ نہیں؛ ممبئی، چنئی، دہلی، بینگلور اور دیگر شہروں میں ڈی ڈبلیو سے بات کرنے والی درجنوں خواتین نے اسی نوعیت کے تجربات بیان کیے۔

کرایہ پر گھر لینا: ایک پیچیدہ مہم

چنئی کی 30 سالہ سنگیتا راجن کا کہنا ہے کہ اکیلے رہنے کا عمل  مشکل اور تھکا دینے والاعمل ہوتا ہے۔ پراپرٹی ڈیلرز اور مالک مکان  کے سوالات ہمیشہ ایک ہی سمت میں جاتے ہیں۔ "سنگل ہو؟ شادی شدہ ہو؟ کسی کے ساتھ رہتی ہو؟وہ بتاتی ہیں کہ دہلی میں بھی انہیں یہی طرزِ عمل ملا—اکیلی عورت کے طرزِ زندگی پر شک، غیر ضروری نگرانی، اور کردار پر تبصرے۔

پڑوسیوں کی نگرانی: آزادی یا سزا؟

رائے پور کی 29 سالہ سنجنا (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ گھر مل جانا مسئلہ نہیں—اصل مشکل اسے ’’اپنا‘‘ محسوس کروانا ہے۔
نئے فلیٹ میں صرف ایک ماہ بعد ہی ان کے پڑوسیوں نے مالک مکان کو شکایت لگانا شروع کردی:

  •   گھر میں لڑکے آتے ہیں۔
  •   رات گئے آنے جانے کی عادت ہے
  •  سگریٹ/شراب پیتی ہیں۔

ایک بار وہ صبح سویرے نائٹ گاؤن میں دروازہ کھولتی ہیں تو نیچے والی خاتون انہیں فون کرکے کہہ دیتی ہیں۔ میرے دو بیٹے ہیں، کیا آپ کو ایسے کپڑوں میں شرم نہیں آتی؟بعد ازاں مالک مکان نے بھی ان کے ’’رات گزارنے والے مہمانوں‘‘ پر سوال اٹھانا شروع کردیا۔

کردار کشی—خاموش مگر تکلیف دہ رویہ

دہلی کی 32 سالہ عائشہ دوآ کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ تکلیف کردار پر تنقید سے ہوتی ہے۔

 اکیلی رہتی ہوں تو لوگ فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ بہت  بولڈ  ہوں یا بہت  ماڈرن ۔ ان کے مطابق یہ روزمرہ کی خاموش مگر مستقل بدتمیزی ہے—نظریں، سوالات، مشورے، اور چھوٹے چھوٹے جملے جو عورت کو اس کی حدیاد کراتے رہتے ہیں۔

غیر شادی شدہ مرد بھی متاثر

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بعض سنگل مرد بھی کرایہ پر گھر لینے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
پونے کے 32 سالہ رونِت چُگلے کے مطابقزیادہ تر سوسائٹیز غیر شادی شدہ افراد کو گھر نہیں دیتیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہم مسئلے پیدا کریں گےتاہم خواتین کی مشکلات کہیں زیادہ گہری، ذاتی اور سماجی دباؤ والی ہوتی ہیں۔

بھارتی سوسائٹی کی چند مثبت مثالیں

تمام خواتین اس صورتِ حال کا سامنا ایک ہی شدت سے نہیں کرتیں۔ 46 سالہ اندو نائر کا تجربہ نسبتاً خوشگوار رہا۔
پڑوسی مددگار تھے، والدین ساتھ دیتے تھے، اور کارپوریٹ عہدے میں ان کی پیشہ ورانہ حیثیت نے انہیں عزت دلوائی۔
پھر بھی وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرتیں کہ کبھی کبھار ان کے فیصلوں پر تفتیشی سوالات اٹھائے جاتے تھے۔

یہ مسئلہ صرف بھارت کا نہیں—ایک وسیع ایشیائی رویہ ہے !

خاندانی قوانین کی ماہر وکیل اور مصنفہ ملاویکا راجکوٹیا کے مطابق یہ رویہ نہ صرف بھارتی بلکہ پورے ایشیائی معاشرے میں عام ہے۔خواتین کی بڑھتی ہوئی مالی آزادی مردوں کو غیر محفوظ محسوس کرواتی ہے۔ اسی لیے ان پر نگرانی رکھی جاتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ یہ مزاحمت دراصل سماج کی تبدیلی کی علامت ہے۔راجکوٹیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نگرانی تکلیف دہ ہے، لیکن اکیلے رہنے کے فوائد کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ ایسی عورتیں خود مختار ہیں ، مالی نظم و ضبط سے چلتی ہیں ، ذہنی سکون پانا آسان ہے اور ساتھ ہی ناپسندیدہ لوگوں سے دوری مل جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزادی تھوڑی دشواریوں کے ساتھ آتی ہے، مگر اس کی قیمت دینا فائدے کا سودا ہے۔

سماج بدل رہا ہے—آہستہ مگر مستقل

آج کی خواتین بہتر کماتی ہیں، بہتر فیصلے کرتی ہیں، اور اپنی زندگی خود سنبھال رہی ہیں۔ یہی تبدیلی قدامت پسند حلقوں میں بے چینی کا باعث بنتی ہے۔راجکوٹیا کے مطابق کچھ مرد اب بھی سمجھتے ہیں کہ گھر چلانا صرف ان کی ذمہ داری ہے، اور عورت کی کامیابی سے انہیں خوف آتا ہےلیکن وہ مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔  انہوں نے کہا کہ مزید خواتین کو خود مختار ہونا چاہیے۔یہی سماج کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button