دی سپرلیڈ ڈاٹ کام ، واشنگٹن ڈی سی ۔ سوڈان میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی نے ملکی شہری آبادی کو شدید انسانی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں اور محاصروں کے نتیجے میں عام لوگ جان و مال کی قیمت چکا رہے ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کے بیانات اور بین الاقوامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ تنازع نہ صرف جنگی تنازع ہے بلکہ ایک سنجیدہ انسانی المیہ بن چکا ہے۔ اس حوالے سے عینی شاہدین نے جو دیکھا وہ بہت کربناک ہے۔ کسی نہ کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہونے والے شہریوں کے مطابق شمالی دارفور میں زَم زَم کیمپ پر RSF کا حملہ تین دن تک جاری رہا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز نے گھروں پر دھاوا بولتے ہوئے نسلی نعرے لگائے اور بے گناہوں پر فائرنگ کی۔بہت سے افراد کو گرفتار کر کے بدترین تشدد کیا گیا، غیر انسانی فعل کے وجہ سے کئی مرتے چلے گئے ۔ متاثرین اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ بے گناہ افراد حملے کے دوران یا فرار کی کوشش کرتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بنے، گھریلو املاک تباہ کی گئیں، اور کئی مقامات پر قتل و غارت ہوئی ۔
بین الاقوامی رپورٹیں اور انسانی بحران
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان میں تین کروڑ سے زائد جنگ زدہ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔یو این انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران ہزاروں شہری ہلاک ہوئے، اور انہیں زیادہ تر توپ خانے کی گولہ باری، فضائی حملوں اور دیگر تشدد کا سامنا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے ایک نمائندے نے سوڈان کے شہریوں کو نسلی تشدد اور جنگی نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔دارفور کے شہر الفاشر کے محاصرہ کے دوران سینکڑوں بچے اپنے والدین سے جدا ہو گئے۔ کچھ بچے بکھری لاشوں کے درمیان رہ گئے یا صحرا کی قہرآلودی کا شکار ہو کر مر گئے ۔ قید یا حراستی مراکز میں بچوں کو ناقص حالات، تشدد اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ خوفناک مناظِرسب کا دل دہلا رہے ہیں ۔ مختلف عالمی فورمز پر سوڈان کا معاملہ زیر غور آرہا ہے ۔ ایسی تنظیموں کے مطابق اقوامِ متحدہ کو سوڈان میں انسانی رسائی بڑھانے اور بے گھر لوگوں کی فوری مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔جنگی جرائم کی تحقیقات کے بھی مطالبات سامنے آرہے ہیں ۔




