SUPER LEADS

ٹرمپ انتظامیہ کا میڈیا اداروں کو الٹی میٹم: ‘غلط رپورٹنگ پر لائسنس منسوخ ہو سکتے ہیں’

واشنگٹن: (دی سپرلیڈ ڈاٹ کام) ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جنگ کی کوریج کرنے والے میڈیا اداروں کے خلاف سخت رخ اختیار کر لیا ہے

واشنگٹن: (دی سپرلیڈ ڈاٹ کام) ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جنگ کی کوریج کرنے والے میڈیا اداروں کے خلاف سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ادارے نے ‘گمراہ کن معلومات’ یا ‘جعلی خبریں’ نشر کیں تو ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

ایف سی سی کی وارننگ اور عوامی مفاد

امریکی میڈیا ریگولیٹری ادارے (FCC) کے چیئرمین برینڈن کیر نے سوشل میڈیا پر اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ نشریاتی اداروں کا بنیادی مقصد عوامی مفاد میں کام کرنا ہے۔ انہوں نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا:

"جو ادارے حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں، وہ اپنی پالیسی درست کر لیں کیونکہ لائسنس کی تجدید کا وقت قریب ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں لائسنس سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔”

صدر ٹرمپ کے الزامات

یہ سخت بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بعض میڈیا ہاؤسز پر ایران جنگ کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میڈیا نے سعودی عرب میں ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی ایندھن بردار طیاروں کی تباہی کی مبالغہ آرائی کی، جبکہ حقیقت میں طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا تھا اور وہ اب دوبارہ فعال ہیں۔

‘صحافیوں کو محب وطن ہونا چاہیے’

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی صحافتی اندازِ فکر پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے خصوصاً سی این این (CNN) کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو زیادہ ‘محب وطن’ انداز اختیار کرنا چاہیے اور جنگی حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

سخت ردعمل اور سنسرشپ کے خدشات

انتظامیہ کے اس رویے پر امریکی سیاسی حلقوں اور آزادیٔ اظہار کے علمبرداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی سینیٹر برائن شاٹز نے اسے براہِ راست سنسرشپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے جنگ کی ‘مثبت’ تصویر کشی نہ کی تو ان کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پس منظر: یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور عالمی میڈیا اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

Related Articles

Back to top button