مرنے کے بعد میت کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟

وارث علی ، دی سپر لیڈ ڈاٹ کام ۔ انسانی جسم قدرت کی ایک بہترین تخلیق ہے۔ اس تحریر میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کس طرح پیچیدہ انسانی جسم ان سادے مادوں میں ٹوٹ جاتا ہے جن سے مل کر وہ بنا ہے۔ انسان سمیت سب جاندار سیلز سے بنے ہیں۔ ایک جیسے سیلز جو کہ ایک ساتھ کام کرتے ہوں ، ٹشو بناتے ہیں۔

موت کے بعد انسانی ٹشوز کی ڈیکمپوزیشن (گلنے سڑنے کا عمل) دو طریقے سے ہوتا ہے ۔ایک وہ عمل جس میں ٹشوز کے خلیوں میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں کہ ان کی ساخت خراب ہوجاتی ہے، موت کے بعد خلیے میں آنے والی کیمائی تبدیلوں کی وجہ سے خود خلیے کے اینزیمز ہی خلیے کی توڑ پھوڑ شروع کردیتے ہیں۔ اس عمل کو “autolysis” (یعنی آپنے اپ کو توڑنا) کہتے ہیں۔ دوسرے عمل میں باہر ماحول میں موجود اور جسم کے اندر موجود بیکٹیریا اور کچھ اور خرد بینی جاندار جسم ہے ٹشوز اور خلیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان جانداروں کو decomposers کہا جاتا ہے، یہ جاندار ٹشوز پر اپنے اینزیمز خارج کرتے ہیں، جس سے ٹشوز سادے مادوں میں ٹوٹ جاتے ہیں، جن میں سے یہ اپنی غذا لیتے ہیں۔ اس عمل کو “Putrefaction” کہتے ہیں۔ پڑھنے میں تو ہمیں یہ دونوں عوامل (autolysis اور putrefaction) الگ الگ لگتے ہیں، لیکن ایک لاش میں ہمیں یہ دونوں عوامل تقریباً ایک ساتھ ہوتے ہوئے ہی ملتے ہیں۔

اگر ہم ایک ایسی لاش کی بات کریں جس کو کسی مصنوعی یا قدرتی طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا اور کھلے ماحول میں پڑی ہے تو اس میں ڈی کمپوزیشن کا عمل کیسے ہوگا ؟

👈#آٹو_لائسز (autolysis) (0- 2 دن) جیسا کہ میں اوپر autolysis کا ذکر کر چکا ہوں۔ آئیں اب اس عمل کے بائیو کیمکل عوامل کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ایک زندہ خلیے کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، انسانی خلیہ اور زیادہ تر جانداروں کے خلیے یہ توانائی (یعنی کہ ATP یعنی کہ وہ توانائی جو خلیے استعمال کرتے ہیں) خوراک اور آکسیجن کے ایک سلسلہ وار ریکشن (aerobic respiration) سے حاصل کرتے۔ جسم کے مردہ ہونے کے بعد ، چونکہ سانس لینے کا عمل اور خون کا بہاو رک جاتا ہے اس لیے خلیوں کو آکسیجن کی فراہمی بند ہوجاتی ہے۔ جب آکسیجن کی غیر موجودگی میں خلیے میں موجود خوراک (گلوکوز) کو توانائی میں بدلہ جاتا ہے تو اس عمل (anerobic respiration) میں lactic acid اور pyruvic acid جیسے تیزاب بنتے ہیں، اس کے علاؤہ اس عمل میں ATP کی پیداوار بھی بہت کم ہوتی ہے۔ خلیے کی بیرونی جھلی مخصوص چیزوں کو خلیے کے اندر آنے دیتی ہے، مخصوص چیزوں کو باہر نکالتی ہے اور مخصوص چیزوں کو آرپار جانے سے روکتی ہے، اس کام کے لیے جھلی کو ATP (توانائی) کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی کمی کی وجہ سے جھلی اپنا کام درست طریقے سے نہیں کر پاتی اور بہت جیسی نمکیات خاص کر کیلشیم خلیے کے اندر داخل ہونے لگ جاتے ہیں۔ انہی نمکیات کے پیچھے پانی بھی خلیے میں داخل ہوجاتا ہے (osmosis) جس سے خلیے میں پانی کا پریشر بڑھ جاتا ہے، جو کہ خلیے کی ارگنیلیز (organelles) کو ڈیمج کرتا ہے، اسکے ساتھ ہی موجود تیزاب بھی خلیے کی ارگنیلیز کی جھلیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ان ارگنیلیز میں مخصوص اینزیمز موجود ہوتے ہیں جو کہ ارگنیلیز کی جھلیوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے باہر خلیے میں آجاتے ہیں۔

یہ catabolic enzymes (یعنی بائیو مالیکولز کو توڑنے والے اینزیمز) خلیے میں موجود ارگنیلیز کے اندر موجود تھے اور وہاں خلیے کے لیے مختلف کام کر رہے تھے، خلیے میں داخل ہونے والے مختلف کیمکل مالیکولز کو توڑ رہے تھے، مگر موت کے بعد اوپر بیان کئے گئے سلسلہ وار عوام عوامل کے بعد ارگنیلیز سے باہر آ چکے ہیں اور اب خلیے کو ہی توڑ رہے ہیں ۔ ان ارگنیلیز میں ہمارے پاس lysosomes، peroxisomes, mitochondria وغیرہ شامل ہیں۔ خاص کر lysosomes سے خارج ہونے والے اینزیمز خلیے کی توڑ پھوڑ میں کافی حد تک شامل ہوتے ہیں۔ یہ autolysis کا عمل مختلف خلیوں میں مختلف رفتار کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسا کہ جگر کے خلیے جن میں بہت سارے catabolic enzymes ہوتے ہیں، ان میں autolysis کا عمل زیادہ شدید ہوتا ہے۔

👈#لاش_کا_اکڑ_جانا (Rigor mortis) شاید آپ نے کبھی انسان کے مرنے کے بعد لاش میں اکڑاہٹ دیکھی ہو۔ ہمارے جسم کو حرکت دینے کے لیے ہمارے پٹھے سکڑتے ہیں۔ ہمارے پٹھے جن خلیوں سے بنے ہیں (muscle fiber) ان خلیوں میں خاص سکڑنے والے پروٹینز (actin اور myosin) ہوتے ہیں۔ جب ہم جسم کے کسی حصے کو حرکت دینے کا سوچتے ہیں تو ہمارے دماغ سے ہمارے پٹھوں کے خلیوں کو سگنل جاتا ہے اور پٹھے کے خلیوں میں موجود یہ پروٹینز ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور جب پٹھے کے بہت سے خلیوں میں یہ عمل ہوتا ہے تو پٹھا سکڑتا ہے اور ہمارے جسم کا وہ حصہ جو اس پٹھے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، حرکت کرتا ہے۔ پٹھے کے خلیوں میں موجود پروٹینز کو جڑنے اور سکڑنے کے لیے کلشیم کی ضرورت ہوتی ہے اور ان پروٹینز کو دوبارہ الگ کرنے اور سکڑے ہوئے پٹھے (کے خلیوں) کو دوبارہ اصل حالت میں ATP کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر میں نے autolysis کی بات کرتے ہوئے ذکر کیا کہ autolysis کے دوران خلیوں میں وافر کلشیم داخل ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ATP کی کمی ہوجاتی ہے، کلشیم کے داخلے کی وجہ سے پٹھے کے خلیے سکڑ جاتے ہیں، جبکہ ATP کی کمی کی وجہ سے یہ سکڑاؤ ختم نہیں ہوپاتا ، اس لیے پٹھوں میں اکڑاہٹ آجاتی ہے جس وجہ سے لاش اکڑ جاتی ہے۔

👈#جلد_کے_رنگ_میں_تبدیلی (Livor Mortis)موت کے بعد جلد کا رنگ تبدیل ہونا خون کے بہاؤ کے رکنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے آکسیجن کی کمی والا خون (deoxygenated blood) جسم کے حصوں میں ہی رک جاتا ہے۔ جلد کے پاس موجود deoxygenated خون کی وجہ سے جلد کے رنگ میں تبدیلی آتی ہے اور عموماً جلد کا رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔یہ رکا ہوا خون بیکٹیریا اور دوسرے خردبینی ڈیکمپوزر جانداروں کے لیے ایک بہترین رہائش گاہ کا کام بھی کرتا ہے۔

👈#خرد_بینی_ڈی_کمپوزرز_کا_کردار اس autolysis کے عمل کے بعد مردہ جسم کے ٹشوز اور خلیے ہلکے تیزابی، آکسیجن کے بغیر اور ڈی کمپوزرز کے لیے غذا کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ جسم کا امیون سسٹم جو کہ زندگی میں ان جانداروں اور جراثیم سے لڑتا تھا اب خود ان کا شکار بننے کے لئے تیار ہے۔ اس عمل میں نہ صرف باہر فضا سے آنے والے بیکٹیریا اور فنجائی حصہ لیتے ہیں بلکہ جسم کے اوپر اور اندر (انتوں میں ) میں موجود بیکٹیریا بھی کام کرتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا جو زندگی میں صرف نظام انہضام کی انت تک محدود تھے اب autolysis کی پھیلائی ہوئی توڑ پھوڑ کی وجہ سے اب نظام انہضام سے نکل کر پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ Putrefaction کے اس عمل میں موجود بیکٹیریا کی عام مثالوں میں Pseudomonas, Bacterioides fragilis, Eschericia coli, Clostridium perfringens, Proteus وغیرہ شامل ہیں

👈#لاش_کا_پھول_جانا (Bloating)یہ بیکٹیریا اور فنجائی جسم کے خلیوں پر مختلف اینزیمز خارج کرتے ہیں تاکہ خلیوں میں موجود پروٹینز، لپڈز، کاربوہائیڈریٹ جیسے مالیکولز کو ہضم کرکے ان سے توانائی لیتے ہیں، اور اس دوران یہ کاربن ڈائی آکسائڈ، میتھین، سلفر کے کمپونڈز جیسی گیسس بناتے ہیں۔ ان گیسس کے بننے سے لاش پھول جاتی ہے۔ خاص کر لاش کا معدہ، آنتیں اور نرم ٹشوز حجم میں بڑھ جاتے ہیں۔ اس دوران یہ گیسس بدبو کا باعث بھی بنتی ہیں۔

👈#مزید_گلنا_سڑنا اور #حشرات_کا_کھانا (Decay) (5 سے 11 دن کے درمیان)بیکٹیریا کا عمل (putrefaction) نظام انہضام سے شروع ہوتا ہے۔ اس دوران لاش اگر پہلے سے ہی زمین پر موجود ہے یا پھر قبر میں دفنائی گئی ہے تو زمین پر موجود حشرات اور کیڑے مکوڑے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ گیسس کے پریشر اور حشرات کے لاش کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کھانے کی وجہ سے ، لاش کا پیٹ پھٹ جاتا ہے اور جسم کے نرم ٹشوز حشرات کی غذا کی وجہ سے کم ہوجاتے ہیں۔ اس دوران جسم میں موجود پانی بھی خشک ہوجاتا ہے۔ پانی کی غیر موجودگی کی وجہ سے بیکٹریا کی تعداد میں کمی آتی رہتی ہے۔

👈#پوسٹ_ڈیکے (post decay) ( 10 سے 25 دن کے اندر شروع ہوتا ہے )یہ سٹیج لاش کے آس پاس موجود نمی پر منحصر ہے۔ اگر لاش کے آس پاس نمی بہت کم ہو تو جسم میں ہڈیوں، خشک جلد اور cartilage (جیسا کہ ناک، کان کی موٹی اور نرم جلد) وغیرہ ہی بچتی ہیں۔ اگر لاش کے اس پاس کی مٹی نم ہو تو لاش کے نرم ٹشوز بھی برقرار رہتے ہیں۔ اس وقت قبر کے اندر اور لاش کے آس پاس بدبو آتی ہے۔

👈#خشک_سٹیج (25 دن کے بعد شروع ہوتا ہے)اس موقع پر صرف ہڈیاں اور بال ہی بچتے ہیں ، اور بدبو بھی ختم ہوجاتی ہے۔

👈#واضح_رہے کہ اس سارے عمل میں لاش کے اردگرد کا ماحول اور لاش کے باہر موجود کوئی اور طح جیسا کہ کفن وغیرہ ڈی کمپوزیشن کے عمل پر اثر کرتے ہیں