انسانی جسم کے بارے کچھ غلط فہمیاں

وارث علی ، دی سپر لیڈ ڈاٹ کام ۔ آئیے ان باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو کہ انسانی جسم کے بارے میں عام ہیں مگر سائنسی لحاظ سے غلط ہیں

👈 انسان صرف اپنے دماغ کا دس فیصد استعمال کرتا ہے یہ ایک غلط العام بات ہے جس کو سائنسی فیکٹ بنا کر بتایا جاتا ہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے، انسان کے دماغ کا زیادہ تر حصہ زیادہ تر وقت میں ایکٹو ہی رہتا ہے ، نیند کی حالت میں بھی دماغ کی ایکٹیوٹی میں دماغ کا ایک بڑا حصہ استعمال ہورہا ہوتا ہے۔

👈 جگر خون بناتا ہے ہمیں اکثر کچھ لوگوں کے بارے میں سننے کو ملتا ہے کہ ان کا جگر خون نہیں بنا رہا ، مگر ایک بالغ انسان میں خون بنانے کا کام جگر کا نہیں ہے۔ جب بچہ ماں کے جسم میں ہوتا ہے اس وقت اس کے خون کے خلیے جگر میں بنتے ہیں مگر پیدائش کے بعد خون کے خلیے بنانے کا کام بون میرو کا ہوتا ہے، البتہ خون کے پلازمہ (خون کا مائع حصہ) کا 6 سے 8 فیصد پلازمہ پروٹینز پر مشتمل ہوتا ہے ، جو کہ جگر میں بنتے ہیں۔

👈 جسم کی سب نسیں ناف سے گزرتی ہیں یہ ایک اور غلط العام بات ہے ، پیدائش کے بعد ناف کا فنکشن نہ ہونے کے برابر ہے، اور نہ ہی جسم کی سب نسیں ناف میں سے گزرتی ہیں، اس بارے 👈 بچے کے جسم میں خون ماں کے خون سے جاتا ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماں کے جسم میں موجود بچے کو خون ماں کے جسم سے ملتا ہے ، حالانکہ ماں کے رحم میں موجود بچے کا خون بچے کے ہی جسم میں بنتا ہے ، خون کے خلیات بننے کا عمل بچے (جنین) کے باہر موجود ایک جھلی (extra embryonic layer) yolk sac میں بنتا ہے ، جس کے بعد خون کے سٹیم سیلز (جن سے خون وجود میں آتے ہیں ) جگر اور کچھ اور اعضاء میں منتقل ہوتے ہیں اور وہاں خون کے خلیے بننے شروع ہوتے ہیں ، پیدائش کے بعد بون میرو میں خون کے خلیے بنتے ہیں۔ غرض بچہ خود اپنا خون بناتا ہے۔ ماں اور بچے کے خون کے درمیان placenta کے ذریعے خوراک ، گیسس اور فاسد مادوں کا تبادلہ تو ہوتا ہے مگر عام حالات میں دونوں کا خون کبھی مکس نہیں ہوتا۔👈 چھینکتے وقت دل رک جاتا ہے فیس بُک پر کچھ عرصے سے یہ پوسٹ چل رہی ہے کہ چھینکتے وقت دل رک جاتا ہے، حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ چھینک کا مقصد سانس کی نالی میں موجود مادوں کو صاف کرنا ہوتا ہے، اس دوران کبھی کبھار سینے کے مسلز کے دباؤ کی وجہ سے ایک لمحے کے لیے بلڈ وسیلز پر پریشر کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے وقتی طور پر بلڈ پریشر تبدیل ہوسکتا ہے مگر اس سارے عمل میں دل کے رکنے کی بات کبھی نہیں ہوتی۔

👈 پسینہ آنے سے چربی پگھلتی ہے اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ بیٹھ کر پسینہ بہانے سے چربی پگھلتی ہے جس سے وزن کم ہوتا ہے۔ مگر یہ بات سراسر غلط ہے ، پسینے سے جسم میں پانی اور کسی حد تک نمکیات کی کمی ضرور ہوتی ہے مگر پسینے کے ذریعے چربی کا خروج یا کمی نہیں ہوتی۔ اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے مارکیٹ میں سلم بیلٹس کو وزن کم کرنے کے طریقے کے طور پر بیچا جاتا ہے، مگر سائنسی طور پر یہ غلط فہمی ہے۔

ہمارے پاس صرف پانچ حواس ہوتے ہیں (حواسِ خمسہ)عام طور پر ہم انسان کی پانچ بنیادی حواس (چھونے کو محسوس کرنا، دیکھنا، سننا، ذائقہ، سونگھنے کی حس) مگر حقیقت میں ہمارے پاس اس سے زیادہ حواس ہیں ، جیسا کہ درجہ حرارت محسوس کرنا، توازن کی حس، درد کی حس ، پیاس اور بھوک کی حس وغیرہ

👈 دل میں نیورنز ہیں اس لیے دل بھی سوچتا ہےسوچ کو عام زبان میں دل سے منسلک کیا جاتا ہے اور اس بات کو سائنسی رنگ دینے کے لیے یہ بات بنا لی گئی ہے کہ دل میں نیورنز موجود ہیں اس لیے دل دماغ کی طرح سوچ سکتا ہے۔ مگر اصل میں یہ نیورنز سوچنے والے نہیں بلکہ ان کا مقصد دل کی دھڑکن کے ربط کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اسی طرح دل کے علاؤہ جسم میں اور بھی بہت جگہ نیورنز موجود ہیں۔ مگر سوچنے کے لیے دماغ کے مخصوص حصے میں موجود نیورنز کا ایک sequence ذمہ دار ہے۔

👈 موت کے بعد بھی بال اور ناخن بڑھتے ہیںیہ بات بھی عام اور غلط ہے۔ بال اور ناخن کے بڑھنے کے لیے ان کو بنانے والے سیلز میں تقسیم اور انکی تعداد بڑھنا ضروری ہے۔ جب کہ آکسیجن اور غذا کے بغیر خلیے تقسیم نہیں کرسکتے، سو موت کے بعد بال اور ناخن بڑھتے نہیں البتہ موت کے بعد جلد کے سکڑنے سے یہ بڑھے ہوئے لگ سکتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کی لمبائی نہیں بڑھتی۔