SUPER LEADSSUPER WORLD

گاؤمتر کے دعوے کرنے والے انی رودھا چاریا کا شکاگو میں طبی معائنہ، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی

دی سپرلیڈ ڈاٹ کام ، نئی دہلی ۔ بھارت کے معروف مذہبی مبلغ اور روحانی شخصیت انی رودھا چاریا جی کی امریکا کے شہر شکاگو میں طبی معائنے اور بلڈ ٹیسٹ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

دی سپرلیڈ ڈاٹ کام ، نئی دہلی ۔ بھارت کے معروف مذہبی مبلغ اور روحانی شخصیت انی رودھا چاریا جی کی امریکا کے شہر شکاگو میں طبی معائنے اور بلڈ ٹیسٹ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ انی رودھا چاریا نے اس موقع پر اپنے پیروکاروں کو باقاعدگی سے طبی معائنہ کرانے کا مشورہ بھی دیا، جسے بعض بھارتی صارفین ان کے سابقہ طبی دعوؤں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق انی رودھا چاریا نے شکاگو میں بلڈ ٹیسٹ کرایا اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ وقفے وقفے سے اپنا ہیلتھ چیک اپ ضرور کرائیں تاکہ جسم میں پیدا ہونے والی ممکنہ طبی پیچیدگیوں کا بروقت پتا چل سکے۔ ان کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا۔

تاہم یہی بیان اب ان کے ماضی کے بعض متنازع طبی دعوؤں کے باعث سوالات کی زد میں ہے۔ انی رودھا چاریا اس سے قبل گاؤمتر اور روایتی طریقۂ علاج کے حوالے سے ایسے دعوے کرتے رہے ہیں جن پر طبی ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید سامنے آتی رہی ہے۔ 2024 میں ان کے بارے میں ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ وہ گاؤمتر سے کینسر کے علاج اور گائے کے گوبر کے جلد پر استعمال جیسے دعووں کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر چکے ہیں۔

نوجوت کور سدھو کے معاملے میں بھی گاؤمتر کا ذکر

رواں سال انی رودھا چاریا کی جانب سے سابق بھارتی کرکٹر و سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور سدھو کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔ اس میں انی رودھا چاریا نے دعویٰ کیا کہ نوجوت کور نے کینسر کے دوران گاؤمتر استعمال کیا اور اسے اپنی صحت یابی سے جوڑا۔

بعد ازاں نوجوت کور سدھو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جدید طبی علاج کو مسترد کرنے کی حمایت نہیں کرتیں اور کینسر کے علاج کے لیے ماہرین کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ایلوپیتھک علاج ہی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ طبی ماہرین نے بھی گاؤمتر کو کینسر کا ثابت شدہ علاج قرار دینے کے دعوے کو مسترد کیا۔

اب سوال شکاگو کے چیک اپ پر کیوں اٹھ رہا ہے؟

انی رودھا چاریا کے شکاگو میں طبی معائنے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر جدید طبی تشخیص اور باقاعدہ میڈیکل چیک اپ صحت کے لیے ضروری ہیں تو پھر یہی اصول ان کے پیروکاروں کے لیے بھی یکساں طور پر بیان کیے جانے چاہئیں۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ جس شخصیت کی گفتگو میں روایتی اور گاؤمتر پر مبنی علاج کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی رہی ہے، وہ خود جدید طبی نظام کے تحت خون کے ٹیسٹ اور طبی معائنے کی طرف کیوں گئی؟

تاہم دوسری جانب بعض صارفین کا مؤقف ہے کہ کسی شخص کا طبی معائنہ کرانا بذاتِ خود کوئی تضاد ثابت نہیں کرتا اور انی رودھا چاریا کا حالیہ پیغام، یعنی باقاعدگی سے ہیلتھ چیک اپ کرانے کی تلقین، عوامی صحت کے حوالے سے مثبت بات بھی سمجھی جا سکتی ہے۔

طبی سائنس کیا کہتی ہے؟

ماہرین صحت کے مطابق معمول کے طبی معائنے اور اسکریننگ کا مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص اور خطرات کی نشاندہی کرنا ہے۔ شکاگو کے بڑے طبی ادارے بھی باقاعدہ چیک اپ اور اسکریننگ کو احتیاطی صحت کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔

گاؤمتر کے حوالے سے بھی دستیاب سائنسی لٹریچر میں یہ بات واضح ہے کہ اگرچہ اس کے روایتی استعمال پر تحقیق موجود ہے، لیکن متعدد سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے اس کی افادیت کے مضبوط اور قابلِ اعتماد سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

یوں انی رودھا چاریا کا شکاگو میں طبی معائنہ ایک مرتبہ پھر بھارت میں اس بنیادی سوال کو زندہ کر گیا ہے کہ روحانی اور مذہبی شخصیات جب صحت سے متعلق مشورے دیں تو کیا انہیں بھی وہی سائنسی معیار اختیار نہیں کرنا چاہیے جس کی وہ اپنے پیروکاروں کو تلقین کر رہے ہیں؟

#SuperLeadNews

Related Articles

Back to top button