راولپنڈی: لال کڑتی کے عسکری اپارٹمنٹس میں 45 سالہ حنا جاوید کے مبینہ قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس تفتیش کے دوران گھریلو ملازم ذیشان کے بیانات میں تبدیلی اور واقعے سے متعلق مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ذیشان نے حراست میں لیے جانے سے لے کر باقاعدہ تفتیش کے دوران تین مختلف مؤقف اختیار کیے۔ ابتدائی بیان میں اس نے مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر امام کے ساتھ ہونے کا ذکر کیا، بعد ازاں قتل اکیلے کرنے کا مؤقف سامنے آیا، جبکہ تیسرے بیان میں اس نے مبینہ طور پر بتایا کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کے دوران اسے بلایا گیا اور اس نے فیصل اصغر کی مدد کی۔
حنا نے مزاحمت کی، گلا دبانے کا مبینہ دعویٰ
ذرائع کے مطابق تفتیش میں سامنے آنے والے ایک مؤقف کے مطابق میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کے دوران حنا جاوید نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔ اسی دوران اسے مبینہ طور پر قابو کیا گیا اور مزاحمت کے بعد گلا دبانے کا واقعہ پیش آیا۔
پولیس اس بیان سمیت دیگر شواہد کا باہمی موازنہ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعے میں کون کون براہِ راست ملوث تھا اور ہر ملزم کا کردار کیا تھا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملازم ذیشان نے مبینہ طور پر مقتولہ کے ہاتھ باندھنے اور گلا دبانے میں مدد کی۔ پولیس ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ فیصل اصغر نے مبینہ طور پر ملازم کو واردات میں شریک ہونے پر آمادہ کیا تھا۔
قتل کے بعد واقعے کو مختلف رنگ دینے کی مبینہ کوشش
تفتیشی ذرائع کے مطابق قتل کے بعد لاش کو باتھ روم منتقل کرکے شاور کے ساتھ تار کے ذریعے لٹکانے اور واقعے کو خودکشی یا نامعلوم افراد کی کارروائی ظاہر کرنے سے متعلق مبینہ طور پر سوچا گیا۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ کی صورتحال ابتدا ہی سے مشکوک تھی۔ حنا جاوید کی لاش باتھ روم میں شاور سے بندھی ہوئی ملی جبکہ اس کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ ریجنل پولیس افسر راولپنڈی نے بھی بتایا ہے کہ لاش کی حالت دیکھ کر قتل کا شبہ پیدا ہوا تھا۔
گھر میں چور داخل ہونے کی اطلاع، پولیس کو مختلف صورتحال کا سامنا
واقعے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی کہ گھر میں چور داخل ہوئے ہیں۔ پولیس موقع پر پہنچی تو حنا جاوید کی لاش باتھ روم سے برآمد ہوئی۔
ابتدائی طور پر گھر کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ ممکنہ طور پر گھر میں داخل ہونے والے افراد نے واقعہ کیا، تاہم پولیس کے مطابق اس دعوے کی تائید میں تاحال ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے کسی بیرونی حملہ آور کی موجودگی ثابت ہو۔
ملازم کے خلاف چوری کے شبہ سمیت دیگر پہلو بھی زیر تفتیش
پولیس ذرائع کے مطابق ذیشان گھر کے ایک حصے میں رہتا تھا اور اس پر گھر سے نقدی یا دیگر اشیا چوری کرنے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تفتیش کار اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مقتولہ نے کبھی ملازم کو مبینہ چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا اور اگر ایسا تھا تو کیا اس معاملے کا قتل سے کوئی تعلق بنتا ہے۔
تاہم پولیس تمام امکانات کو شواہد کی روشنی میں جانچ رہی ہے اور کسی ایک وجہ کو حتمی قرار نہیں دیا گیا۔
جائے وقوعہ سے متعدد اہم شواہد اکٹھے
پولیس اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتولہ اور زیر حراست ملزمان کے موبائل فون، فنگر پرنٹس، مبینہ آلۂ قتل، تار، ہاتھ باندھنے کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا اور دیگر اشیا سمیت متعدد شواہد محفوظ کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جائے وقوعہ سے 19 مختلف اشیا کے پارسل تیار کیے گئے جبکہ پوسٹ مارٹم کے بعد مختلف نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھی بھجوائے گئے ہیں۔ حتمی طبی رائے فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد دیے جانے کا امکان ہے۔
شوہر اور ملازم تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر
حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی فہد کی مدعیت میں شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
پولیس نے فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان کو گرفتار کرکے عدالت سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا، جبکہ سسر کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر ان کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کی اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے کیس کی تفتیش کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ ٹیم میں متعلقہ پولیس افسران، تفتیشی اہلکار اور تکنیکی ماہرین شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ سمیت دیگر فرانزک پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پرانی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث
دوسری جانب کیس کے مرکزی ملزم قرار دیے جانے والے فیصل اصغر امام کی ایک پرانی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں وہ ایک کارپوریٹ ٹریننگ کے دوران شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کی ایک فرضی مثال بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ ویڈیو پرانی ہے اور اس میں بیان کی گئی مثال کو موجودہ قتل کیس سے جوڑنے کے لیے کوئی براہِ راست ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اس لیے اسے کیس کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
تفتیش جاری، حتمی نتیجہ فرانزک شواہد سے متوقع
پولیس کا کہنا ہے کہ حنا جاوید کے قتل کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔ ملزمان کے بیانات، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، موبائل ڈیٹا، فرانزک رپورٹس اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھا جا رہا ہے۔
فی الحال پولیس تفتیش میں سامنے آنے والے بیانات کو حتمی عدالتی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل صورتحال اور ہر ملزم کے کردار کے بارے میں حتمی تصویر واضح ہوسکے گی۔




