دی سپرلیڈ ڈاٹ کام ، واشنگٹن ڈی ۔ حالیہ دنوں میں پاکستان مرکزنگاہ بنا ہوا ہے ۔ امریکی صدر کی جانب سے مسلسل تعریفوں کےبعد یوں لگ رہا ہے کہ پاکستان اس وقت سفارتی محاذ پر خاصی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے ۔ بین الاقوامی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف دنیا بھر سے کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کا عالمی سطح پر وقار مزید بلند ہوا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کی جنگ کے بعد سے اب تک صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے ۔ جو ممالک بھارت نوازی میں آگے تھے وہ اب پاکستان سے مضبوط تعلقات کو ترجیح دے رہے ہیں ۔
اس حوالے سے اسلام آباد، پاکستان میں مقیم سینئر صحافی شہریار خان نے دی سپرلیڈ ڈاٹ کام واشنگٹن ڈی سی سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ایران نے صرف پاکستان پر اظہار اعتماد کیا ۔ اسلام آباد اپنے وفد کو بھجوانے کا فیصلہ کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں صرف پاکستان کا ہی ثالثی کا کردار سامنے آیا اور امریکا نے بھی اسلام آباد کو ہی چنا ۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر اور مضبوط ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو دنیا قدر کی نگاہ سےدیکھ رہی ہے ۔ پاکستان کے اقتصادی مسائل کے جواب میں شہریار خان نے صورتحال کو چیلنجنگ قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کامیابیاں ایک طرف مگر معاشی چیلنجز عوام کی پریشانی بڑھا رہے ہیں ۔ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں ۔
دوسری جانب بجلی کا بحران بھی سر اٹھا چکا ہے ۔ ایسے میں عوام کو سفارتی کامیابیوں سے اکتاہت محسوس ہو رہی ہے ۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کے طلب گار ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیشتر آبادی متوسط زندگی گزار رہی ہے اور روزگار کے حصول کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔ شہریار خان نے مزید کہا کہ ایسے میں آپ کسی بھی غریب پاکستانی سے رائے لے لیں اس کو سفارتی کابیابیوں کا معلوم بھی نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی بہتر معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے ۔ملک کے اندرونی مسائل پر بھی توجہ دے ۔




